18 اکتوبر 2010 - 20:30

آج صبح گنی بساؤ کے صدر اور ان کے ہمراہ آئے ہوئے وفد کے اراکین نے رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے ملاقات کی۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم نے مہمان صدر اور ان کے ساتھ آئے ہوئے وفد سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران اسلامی ممالک کے ساتھ باہمی روابط کے فروغ کا خیرمقدم کرتا ہے جبکہ امت مسلمہ ایک عظیم اور صلاحیتوں سے سرشار مجموعہ ہے اور دنیا کے ہر گوشے میں انہیں آپس میں دوستی اور اتحاد کا ہاتھ دینا چاہئے۔

رہبر معظم  انقلاب اسلامی نے افریقی ممالک کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: جابر استعماری طاقتوں نے طویل عرصے تک براعظم افریقہ  اور اس کے مغربی علاقے کے لئے بہت بڑے مسائل کھڑے کئے رکھے اور بڑے مسائل پیدا کئے لیکن آج قومیں بیدار ہوچکی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کررہی ہیں۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران افریقی و ممالک کے ساتھ باہمی تعاون کا خیرمقدم کرتا ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران  سامراجی طاقتوں کے برعکس آپ کے ملک کی پیشرفت و ترقی کے لئے، آپ کے قومی مفادات کے مطابق مدد فراہم کرسکتا ہے۔آپ نے فرمایا: اگر یہ تعاون اقوام اور حکومتوں کے درمیان صحیح طریقے سے عملی صورت اپنائے تو دنیا کے تمام مسلمان اس کے فوائد سے مستفید ہوسکیں گے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد سائنس و صنعت کے شعبوں میں ایران کی کی ترقی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ ترقیات اس قومی خود اعتمادی اور اسلامی جوش و جذبے کی مرہون منت ہیں جو امام خمینی (رحمۃاللہ علیہ) کا ایک عظیم و بیش بہاء تحفہ ہے اور جو قوم بھی خود اعتمادی کے ساتھ محنت و کوشش کے میدان میں قدم رکھے گی یقینی طور پر اسے ایسی پیشرفت اور ترقی نصیب ہوگی۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنی گفتگو کے اختتام پر براعظم افریقہ اور اس کے مغربی علاقے میں امن و سلامتی اور اس کی تعمیر و ترقی کی ضرورت پر تاکید فرمائی۔ اس ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر احمدی نژاد بھی موجو د تھے گنی  بساؤ کے صدر نے کہا: میں  اسلامی جمہوریہ ایران  کے دورے میں ایران کے اندر سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں بعض ترقیاتی امور کا مشاہدہ کرکے حیران رہ گیا ہوں ۔گنی بساؤ کے صدر نے مزید کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کی حیرت انگیز پیشرفت اور ایرانی قوم کی صلاحیتیں دیگر قوموں کے لئے فخر و مباہات کا باعث ہیں اور ہم اپنے روابط کو مزید فروغ دینے کے لئے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔..........

/110

بشکریہ از www . leader . ir